عالمی منظرنامے پر سالِ نو کا آغاز انتہائی ہنگامہ خیز طریقے سے ہوا ہے۔ یقیناً آپ کے علم میں ہوگا کہ ایک آزاد ریاست وینیزویلا کے منتخب صدر نکولس ماڈورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فورسز غیر قانونی طریقے سے اغوا کرکے اپنے ملک لے گئی تھیں۔ ماڈورو پر امریکہ ہی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات کی سزا بھی امریکہ انہیں دے کر ہی رہے گا۔ بہرحال دوستو ہم اس تفصیل میں نہیں جا رہے کہ یہ آپریشن کیسے ہوا؟ کیسے تکمیل تک پہنچایا گیا۔ ہمارا یہ موضوع ہرگز نہیں۔ ہم آج آپ کو یہ بتائیں گے کہ امریکہ کا یہ منصوبہ ماہرین کی نظر میں کیوں ایک ناکام منصوبہ ہے۔ ایکسپرٹس کے مطابق امریکہ کے پاس کیوں کوئی قابلِ عمل منصوبہ نہیں ہے؟ آیے یہ سب جانتے ہیں۔
تو دوستو، امریکہ کیوں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پائے گا؟ اس “کیوں” کا جواب منشیات کے الزام میں ہرگز نہیں ہے جس کے تحت ماڈورو کو اغوا کیا گیا ہے۔ بلکہ اس “کیوں” کا جواب وینیزویلا کے تیل کی دولت میں چھپا ہے۔ اس بار امریکہ نے روایتی منافقت کا لبادہ اوڑھنے کی زیادہ کوشش تک نہیں کی۔ ماضی میں جب بھی امریکہ اس سے ملتے جلتے آپریشن کرتا تھا یا کسی ملک کے وسائل لوٹنے کا مقصد ہوتا تھا تو جمہوریت کی بحالی، انسانی حقوق یا آزادۓ اظہار جیسے فینسی وجوہات کا سہارا لیا جاتا تھا لیکن اس بار ایسا معاملہ ہرگز نہیں — امریکہ نے وضع داری اور عالمی آرڈر کے تمام پردے چاک کرتے ہوئے جمہوریت کا ڈرامہ، عوام کی آزادی وغیرہ کا جھوٹ بالکل بھی نہیں بولا بلکہ دھڑلے کے ساتھ کہا جا رہا ہے کہ وینیزویلا کا تیل ہی ہمارا مقصد ہے۔

آپ ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹ ہی دیکھ لیں جس میں وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وینزویلا کا 30 سے 50 ملین بیریل ذخیرہ شدہ تیل امریکہ لا کر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو وہ خود کنٹرول کریں گے۔ یاد رہے کہ یہاں ٹرمپ اُس تیل کی بات کر رہے ہیں جو نکالا جا چکا ہے، پروڈیوس کیا جا چکا ہے اور پابندیوں کے باعث وینیزویلا اسے ایکسپورٹ نہیں کر پا رہا تھا اور ابھی تک یہ اسٹوریج ٹینکس میں محفوظ پڑا ہوا تھا۔
آگے ٹرمپ مزید کہتے ہیں کہ اس رقم کو وینیزویلین اور امریکی شہریوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس پوسٹ کی زبان سے تو آپ کو اندازہ ہو چکا ہوگا کہ کیسے ایک آزاد ملک کے وسائل پر دھڑلے سے ناجائز دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کا دعویٰ عالمی قانون اور اخلاقیات پر کئی طرح کے سوالات اٹھاتا ہے۔ خیر یہ تو وہ تیل تھا جسے زمین سے نکال لیا گیا تھا۔ لیکن ظاہر ہے ٹرمپ صرف اسی تیل کی بات نہیں کر رہے بلکہ وہ وینیزویلا کے پاس موجود دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر تک رسائی بھی چاہتے ہیں۔

وینیزویلا 303 بلین بیریل معلوم شدہ تیل کے ذخائر کے ساتھ اس حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ دنیا کے کل گلوبل آئل ریزروز کا چھٹا حصہ یعنی تقریباً 17% بنتا ہے۔ مگر وینیزویلا کا یہ تیل ہیوی کروڈ آئل ہے۔ یعنی یہ لائٹ کروڈ آئل کی نسبت انتہائی گاڑھا اور کثافتوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ اسے ریفائن کرکے پٹرول یا ڈیزل بنانے کے لیے زیادہ اور مہنگی پروسیسنگ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی سہولت ہر ایک ملک کے پاس موجود نہیں۔ دنیا میں ہیوی کروڈ آئل کو ریفائن کرنے کا سب سے بڑا اور جدید ترین انفراسٹرکچر بھی امریکہ ہی کے پاس ہے۔ خاص طور پر امریکی ریاست ٹیکساس اور لوزیانا کے ساحلوں پر موجود ریفائنریز اسی نوع کے گاڑھے وینیزویلین تیل کے لیے تیار کی گئی تھیں جو بیسویں صدی میں بھی امریکہ کو وینیزویلا سے حاصل ہوتا تھا۔ یعنی امریکہ صرف تیل پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ جانتا ہے کہ اس تیل کو کیش کروانے کی مشینری یا انفراسٹرکچر بھی اس کے پاس موجود ہے۔
اب دوستو اس بارے میں بات کرتے ہیں کہ ماہرین خدشات کا اظہار کیوں کر رہے ہیں کہ وینیزویلا کی تیل کی دولت سے امریکہ فائدہ اٹھا پائے گا یا نہیں۔ دراصل اس وقت وینیزویلا کی سرکاری آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے شدید بدانتظامی اور طویل عرصے تک عائد رہنے والی بین الاقوامی پابندیوں کے باعث عملی طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ تیل کی پیداوار سے متعلق مشینری اور انفراسٹرکچر انتہائی خستہ حال ہو چکا ہے۔ پائپ لائن متعدد مقامات سے خراب ہو چکی ہیں۔ بڑی تعداد میں تربیت یافتہ تجربہ کار مین پاور ملک چھوڑ کر جا چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ انفراسٹرکچر فی الحال تیل کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی اہلیت بالکل بھی نہیں رکھتا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینیزویلا کی تیل کی صنعت کی بحالی کوئی شارٹ ٹرم منصوبہ نہیں بلکہ یہ ایک لانگ ٹرم عمل ثابت ہوگا۔ وینیزویلا جو اس وقت 1 ملین بیرل یومیہ سے بھی کم تیل پیدا کر رہا ہے، اگر اسے اس کی سابقہ صلاحیت جو کہ 3 ملین بیریل یومیہ تک تھی وہاں تک واپس لانے کے لیے کم از کم 7 سے 10 سال لگیں گے۔ اس کے لیے وسیع پیمانے پر تکنیکی اصلاحات کی ضرورت ہوگی۔ انفراسٹرکچر کی از سر نوع تعمیر بھی درکار ہوگی۔ مسئلہ صرف وقت کا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ مالی وسائل کا تقاضا بھی کرتا ہے۔

انرجی ایکسپرٹس کے اندازوں کے مطابق تباہ حال نظام کو دوبارہ قابلِ عمل بنانے کے لیے 100 سے 200 ارب ڈالرز کے درمیان سرمایا کاری درکار ہوگی۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری ایک تباہ حال اور غیر مستحکم ملک میں کون کرے گا؟ کیونکہ جب تک انفراسٹرکچر مکمل طور پر بحال نہیں ہوگا تیل کی زیادہ پیداوار بھی ممکن نہیں ہو پائے گی۔ اسی وجہ سے امریکہ کے اس رجیم چینج منصوبے کو زمینی حقائق سے غیر ہم آہنگ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کا عملی ثبوت ہم دیکھ بھی چکے ہیں۔ حال ہی میں 9 جنوری 2026 کو ڈونالڈ ٹرمپ نے بڑی امریکی آئل کمپنیز کے ایگزیکٹوز کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کی ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد کمپنیز کو وینیزویلا میں کم سے کم $100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر راضی کرنا تھا۔ لیکن دوستو آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس میٹنگ کا نتیجہ ٹرمپ کی توقعات کے برعکس نکلا اور کسی بھی کمپنی سے کوئی کمیٹمنٹ حاصل کرنے میں وہ ناکام رہے۔

دنیا کی بڑی آئل کمپنیوں میں سے ایک ایکسن موبِل کے سی ای او ڈیرن وُڈز نے وینی زویلا کو موجودہ حالات میں ان انویسٹیبل یعنی ناقابلِ سرمایہ کاری قرار دے دیا۔ ڈارن ووڈ نے واضح کیا کہ وینیزویلا میں وہ کوئی نئے کھلاڑی نہیں بلکہ 1940 کی دہائی سے وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کے اثاثے وہاں ایک بار نہیں بلکہ دو بار ضبط کیے جا چکے ہیں، جن کے کیسز ابھی تک چل رہے ہیں۔ بڑی کمپنیز یقیناً وینیزویلا میں سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچا رہی ہیں۔ اور ان کا یہ خوف بلا وجہ بھی نہیں کیونکہ اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔ یہاں ہم اثاثوں کے فریز کیے جانے کا مختصر کانٹیکسٹ آپ کو بتا دیتے ہیں۔ دراصل 1976 میں جب وینیزویلا نے اپنے تیل کے ذخائر کو مکمل طور پر نیشنلائز کیا تو غیر ملکی کمپنیوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا اور ان کے اثاثے فریز کر لیے گئے تھے، جن میں ایکسن موبِل کمپنی بھی شامل تھی۔ اس کے بعد 2007 میں ہوگو شاویز نے ریسورس نیشنلزم کا نعرہ لگایا اور ایک ایکسن موبِل سمیت کئی دوسری کمپنیوں کے اربوں ڈالر کے منصوبوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ لہٰذا اس کانٹیکسٹ میں اور اس رسک کو ذہن میں رکھتے ہوئے حالیہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ میٹنگ میں ایکسن موبِل نے بس اتنا ہی کمٹ کیا کہ وہ وینیزویلا میں آئل انڈسٹری کی موجودہ سچویشن کو سمجھنے اور پرکھنے کے لیے اپنی ٹیکنیکل ٹیم بھیجنے کو تیار ہیں۔

ایکسن موبِل ہی کی طرح کونوکو فلپس کے سی ای او رائن لانس نے کہا کہ وہ وینیزویلا کی اسٹیٹ آئل کمپنی میں بڑے پیمانے پر ری اسٹرکچرنگ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بینکنگ سیکٹر کو وینیزویلا کے قرضوں کی ادائیگی اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے بلینز آف ڈالرز مہیا کرنا ہوں گے۔ یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ دو بڑے آئل پلیئرز نے ملا جلا ردِ عمل ہی دیا اور کوئی فنانشل کمیٹمنٹ نہیں کی۔
اس خدشے کا اظہار امریکہ کے ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ نے پہلے ہی کر دیا تھا کہ بڑی کمپنیز وینیزویلا جانے میں دلچسپی نہیں لیں گی۔ شیوران جو اس وقت وینیزویلا کی اسٹیٹ آئل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے ساتھ جوائنٹ ونچر کے طور پر موجود ہے،

اس کمپنی نے بہرحال اپنی آئل پروڈکشن اگلے 2 سال تک 50% تک بڑھانے کی کمٹمنٹ کی ہے۔ لیکن یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ وہ اس وقت 2400 بیریل یومیہ ہی پروڈیوس کر رہی ہے۔ دو سالوں میں 50% اضافے کے ساتھ یہ مقدار بڑھ کر تقریباً 3.5 لاکھ بیریل تک ہی پہنچ پائے گی۔ یہ کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا جس سے امریکہ کو بڑا فائدہ ہو سکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو ایکسَن موبِل کا ردِ عمل کچھ زیادہ پسند نہیں آیا تھا۔ اسی لیے انہوں نے اس میٹنگ کے بعد کہا کہ وہ ایکسَن موبِل کو وینیزویلا سے باہر رکھنے کے حق میں ہیں۔ یہ صرف ایکسَن موبل کا مسئلہ نہیں بلکہ تقریباً تمام بڑی کمپنیز اس حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں، اور ماہرین کے مطابق ان کے یہ خدشات بالکل درست اور بجا ہیں۔
اس سے بڑا سوال جو سرمایہ کاروں کو پریشان کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا واقعی وینیزویلا میں سب کچھ بدل چکا ہے؟ ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ ماڈورو کو تو ہٹا دیا گیا لیکن وینیزویلا کا سیاسی ڈھانچہ یا رجیم تو جوں کی توں ہے۔ اقتدار ابھی بھی انہی لوگوں کے پاس ہے جو امریکہ کے بدترین دشمن سمجھے جاتے ہیں۔ بلکہ ان میں سے کئی تو ایسے ہیں جن کے سروں پر امریکہ نے کروڑوں ڈالرز کے انعامات یعنی ہیڈ مانی رکھی ہوئی ہے۔ نئی قیادت کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ وینیزویلا کی موجودہ صدر ڈیلسی روڈریز کے بارے میں یہ توقع رکھنا کہ وہ امریکہ کی کٹھ پتلی بن جائیں گی، ایک خیالی بات لگتی ہے۔ ڈیلسی کے دل میں بھی کہیں نہ کہیں امریکہ کے خلاف شدید نفرت موجود ہے، کیونکہ ان کے والد کے بہیمانہ قتل کا الزام سی آئی اے اور امریکی حمایت یافتہ پولیس پر ہی لگایا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں کمپنیز کو وہاں جا کر مقامی قوانین اور وینیزویلین عدالتوں کا بھی سامنا کرنا ہوگا جو ابھی بھی ماڈورو کے حامیوں ہی کے کنٹرول میں ہیں۔ لیگل ایکسپرٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ماڈورو کو ہٹانے کے بعد کوئی قانونی میکانزم نہیں بنایا جس کے تحت تیل کو قانونی طور پر وینیزویلا سے نکال کر امریکہ لایا جا سکے۔ جب تک وینزویلا کی پارلیمان قوانین تبدیل نہیں کرتی تب تک کوئی بھی امریکی کمپنی وہاں جا کر کام نہیں کر سکتی کیونکہ ان کا ہر اقدام وینزویلا کے قوانین کے مطابق غیر قانونی تصور ہوگا اور انہیں عالمی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
بات صرف وینیزویلا تک محدود نہیں۔ خود امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ کے لیے حالات زیادہ سازگار نہیں۔ ٹرمپ کے ان جارحانہ اقدامات کے خلاف امریکہ کے اندر بھی شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔ یہاں تک کہ خود ڈونالڈ ٹرمپ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے مڈ ٹرم انتخابات میں ریپبلیکنز پارٹی کو اکثریت نہ ملی تو انہیں امپیچمنٹ یعنی مواخذے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تب بھی یہ ڈونالڈ ٹرمپ کی آخری صدارتی ٹرم تو ہے اور ان کے پاس اقتدار کے زیادہ سے زیادہ تین سال ہی باقی بچے ہیں۔ آئل انڈسٹری کے پروجیکٹس دہائیوں پر محیط ہوتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے ذہن میں یہ یقیناً ہوگا کہ اگر آج وہ اربوں ڈالرز لگا بھی دیں تو 3 سال بعد کیا نیا صدر یہی پالیسی اپنائے گا اور وینی زویلا میں کیا حالات یہی ہوں گے — اس بارے میں ظاہر ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ یہی غیر یقینی حالات، قانونی پیچیدگیاں اور سیاسی عدمِ استحکام کی وجہ سے ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا وینیزویلین تیل فروخت کرکے امریکہ کو فائدہ پہنچانے کا خواب اب شاید کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکے گا اور وینیزویلین صدر کو اغوا کرنے کی بدنامی امریکہ نے خواہ مخواہ ہی مول لی ہے۔
دوستو بات یہاں تک محدود نہیں بلکہ ایک طرف ٹرمپ نے خود کو وینیزویلا کا عبوری صدر بھی ڈیکلئیر کر رکھا ہے اور کھلے عام وہ یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ وینیزویلا کے معاملات اور اس کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو براہِ راست کنٹرول کریں گے۔ دوسری طرف مارکو روبیو نے ٹرمپ کے دعوؤں کے برعکس دنیا کو دکھانے کے لیے ایک تھری اسٹیپ پلان پیش کیا ہے، جس کے پہلے مرحلے میں سٹیبلائزیشن یعنی استحکام، دوسرے میں ریکوری یعنی تنظیم نو اور تیسرے میں جمہوریت کی طرف منتقلی شامل ہے۔ روبیو کا مقصد صرف یہ تاثر دینا ہے کہ امریکہ قبضہ نہیں کر رہا بلکہ وینیزویلا عوام کی مدد کر رہا ہے جمہوریت کے حصول کے لیے۔ لیکن دوسری طرف کئی امریکی کانگرس کے ممبرز دعویٰ کر رہے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس وینیزویلا کے تیل سے فائدہ اٹھانے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے کوئی منصوبہ سرے سے موجود ہی نہیں۔
دوستو یاد رہے کہ آج ہم نے صرف تیل کے نقطۂ نظر سے بحث کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ حالیہ آپریشن کے بعد جو باقی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے، جن میں چین اور روس سے دوری جیسے مقاصد شامل ہیں، ان پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ ماڈورو کو ہٹائے جانے کے بعد یہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ اب اقتدار اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچادو کو دیا جائے گا۔ مگر باخبر حلقوں کا ماننا ہے کہ شاید انہیں بھی اقتدار نہ مل سکے۔

اس حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر نے ماچادو کی حمایت سے ہاتھ صرف اس لیے کھینچ لیا کیونکہ انہوں نے نوبل انعام قبول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اگرچہ ماریا ماچادو نے جیت کے بعد یہ ایوارڈ ٹرمپ کو ڈیڈی کیٹ بھی کیا، لیکن ان کا ایوارڈ قبول کرنا ہی ان کی بڑی غلطی سمجھا جا رہا ہے۔ سورسز کے مطابق اگر ماچادو یہ ایوارڈ لینے سے انکار کر دیتیں اور یہ کہتیں کہ میں یہ قبول ہی نہیں کرتی کیونکہ یہ دراصل ڈونالڈ ٹرمپ کا حق ہے تو شاید آج وہ وینیزویلا کی صدر بن بھی چکی ہوتیں۔

ماڈورو کو ہٹائے جانے کے بعد ماریا ماچادو نے خوشامد کے انتہائی درجے پر جاتے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا کہ وہ یہ اعزاز ٹرمپ کے ساتھ شئیر کریں گی۔ لیکن ظاہر ہے ٹرمپ بھی اس سے راضی نہیں ہوں گے۔
امریکہ کے اس جارحانہ اقدام نے عالمی سیاست میں ایک انتہائی خطرناک مثال قائم کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر دنیا کی سپر پاور ہونے کے ناطے امریکہ ایک آزاد ریاست کے سربراہ کو یوں اغوا کر کے لے جا سکتا ہے تو کل کو اگر کوئی دوسرا طاقتور ملک ایسا کرے تو اسے کون روکے گا؟ سوچیں اگر آنے والے وقت میں روسی صدر پوٹن یہی جواز پیش کر سکتے ہیں اور وہ یوکرین کے صدر زیلنسکی کو اٹھا کر ماسکو لے جائیں اور ان پر مقدمہ چلائیں تو “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا قانون تو ظاہر ہے امریکہ نے خود ہی شروع کیا ہوگا — تو امریکہ پھر روس کے اس طرح کے اقدام پر تنقید کیسے کر پائے گا؟
صدر ڈونالڈ ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کرنے کا دعویٰ بھی کھلے عام کر رہے ہیں۔ اس بات کا لحاظ تک نہیں کر رہے کہ ڈنمارک ان کا نیٹو الائی ہے۔ اگر گلوبل آرڈر کو کسی حد تک مستحکم رکھنا ہے اور کسی بڑی جنگ سے بچنا ہے تو امریکہ کو ان جارحانہ اقدامات پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔ دوستو آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا امریکہ وینیزویلا کے صدر کو گواہ بنا کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہو پائے گا؟ کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔ شکریہ۔

